ایک قدم، ایک پودا

ہوس اور انسانیت کی جنگ میں سے جب ہوس جیت کر انسان کو سب پا لینے کے لالچ میں ڈال دیتی ہے تب انسانیت کو ہی سب سے زیادہ نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آج سر سبز زمین پر انسانوں کی لائی گئی بربادی کے سبب بڑھتی ہوئی آلودگی اور ماحولیاتی تباہی کے اثرات سامنے آتے ہیں تو ہر کوئی سہم جاتا ہے۔ خطر ناک بیماریاں روز بہ روز بڑھتی جا رہی ہیں۔ بچے، بوڑھے اور جوان ہر کوئی ماحولیاتی آلودگی کے اثرات سہہ رہا ہے۔ کہیں کسی نئی بیماری کی صورت تو کہیں لا علاج مرض میں مبتلا ہو کر۔ مگر ہر کسی کے پاس غلطی سنوارنے کا موقع ہوتا ہے۔ سر سبز زمین کا سبزہ اور خوبصورتی ختم کرنے والے انسان ہیں تو اس سسکتی زمین کی گندگی بھی انسان ہی صاف کر سکتے ہیں۔

شجر کاری ہی وہ اہم ذریعہ ہے جس سے زمین کو کچھ فائدہ دے سکتے ہیں۔ درخت ہوا میں سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لے کر آکسیجن دینے کا وسیلہ بنتے ہیں۔ جو آلودگی میں کمی کے ساتھ جسمانی اور ذہنی بیماریاں بھی گھٹاتے ہیں۔ درخت دماغی تناؤ کو کم کرنے کا موجب بھی ہیں۔ درخت نہ لگانا ایک الگ عمل ہے لیکن پہلے سے موجود درختوں کی کٹائی ماحول پر انتہائی مضر اثرات مرتب کر رہی ہے۔ چونکہ انسان اس ماحول کا حصہ ہے اس لیے درختوں کی کٹائی اور غیر موجودگی براہ راست انسان پر اثر ڈال رہی ہے۔ ناخواندگی اس کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ آگاہی کا نہ ہونا ماحول اور ہر فرد پر بد نما نقش چھوڑ رہا ہے۔ پاکستان کا شمار بھی ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں ماحولیاتی تبدیلیاں بڑے پیمانے پر ہو رہی ہیں۔ پاکستان کے ہر فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ شجر کاری کی مہم میں حصہ لے۔ ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ پاکستان کو بڑی تباہی یا تبدیلی سے بچانے کے خاطر آگے بڑھے، ایک قدم بڑھائے اور ایک پودا لگائے۔

ہر انسان اپنی ذمہ داری اور فرض سمجھتے ہوئے ایک شجر لگائے تو پاک سر زمین سر سبز اور تر و تازہ ہو سکتی ہے۔ ہر کوئی اپنے پودے کی اپنی اولاد کی طرح حفاظت کرے تو وہی باریک تنے اور چند ہرے پتوں والا ننھا و نازک پودا چند سالوں میں مضبوط تنے اور گھنے سایہ دار پتوں سمیت اولاد کے لیے ہی آکسیجن کا انتظام رکھے گا۔ ہر گھر میں لگا درخت انسانیت کے لیے نفع بخش ہو گا۔

اپنے حصے کی شمع جلائے بغیر روشنی میسر نہیں آتی۔ آج ہم تو سانس لے رہے ہیں آزادی سے۔ لیکن ہریالی و سبزے کے بنا شاید آنے والے کل کی زمین کے پاس اس مقدار میں آکسیجن ہی نہ ہو تو نسلِ نو سانس کو ہی ترس جائے گی۔ اپنے آج سمیت کل کو سنوارنے کے لیے آج سے ہی عمل کرنا لازم ٹھہرا ہے۔ پاکستان میں بسنے والے ہر شہری کے لیے اب شجر کاری کرنا ناگزیر ہے۔ چونکہ پاکستان کی آبادی بھی دن بہ دن بڑھتی جا رہی ہے اس لیے رہائشی علاقوں میں بنے کشادہ گھر گرا کر چھوٹے چھوٹے گھر بنائے جا رہے ہیں۔ یہاں ہر کوئی اپنے آنگن میں ہرا بھرا درخت پروان نہیں چڑھا سکتا۔ لیکن روشنی کو بڑھانے کے خاطر ننھی سی شمع تو جلا ہی سکتا ہے۔ اپنے چھوٹے گھر میں کچھ کار آمد پودے جو روز مرہ کے استعمال میں بھی آ جائیں، لگا سکتا ہے۔

اگر ممکن ہو تو چند رہائشی کالونیاں مل کر زمین کا کوئی ٹکڑا مخصوص کر کے چھوٹے پیمانے پر سبزیوں کی کاشت بھی کر سکتا ہے۔ اس سے علاقے میں ہریالی اور تازگی کا احساس بھی زندہ رہے گا ساتھ میں رہائشیوں کے لیے صاف ستھری سبزیوں کا انتظام بھی۔

عام دنوں کی نسبت ورلڈ انوائرنمنٹ ڈے، ماحول اور زمین سے محبت میں اضافہ کرنے کے لیے بہت سی تقاریب منعقد ہوتی ہیں۔ محبت کے جذبے کو مثبت طور سے صرف کر کے زمین کو شاداب اور پائندہ رکھ سکتے ہیں۔ ان تقاریب میں چاہے وہ سرکاری سطح پر ہوں یا نجی، زمانۂ حال کو مد نظر رکھتے ہوئے شجر کاری پر بہت زور دیا جا رہا ہے۔ کامیابی صرف عوام کی بیداری میں ہے۔ ہر شہری اپنا فرض اور قرض سمجھتے ہوئے اس دھرتی کے سینے پر سبزہ آگائے اور ماحول سے دوستی کو یقینی بنائے تو وہ دن زیادہ دور نہیں جب زمین واپس سر سبز و شاداب ہو جائے گی ۔ ہر جانب سے تر و تازگی چھلکے گی، ہر چہرہ ہریالی کا غماز ہو گا۔


تحریر: فضہ شکیل

Fizza Shakeel is at the University of Punjab, Lahore. She was trained on citizen journalism and climate change awareness under SSDO’s two-year project: “Youth for Civic Action and Reporting on Climate Change through Citizen Journalism in Pakistan”, funded by the Commonwealth Foundation.